مستشرقین کی تحریروں کا جائزہ لینے اور افسانہ تراشی و تلاشِ حقیقت میں فرق کر کے حقائق کو پیش کرنے کے لیے جہاں وسعتِ مطالعہ ضروری ہے وہاں جرات رندانہ اور روحِ توانا بھی درکار ہے۔ عالم اسلام کے معاصر محققین میں سے استادِ دانش گاہ ڈاکٹر شہباز منج کا نام بڑے اعتماد سے ایسے ہی کنج کاہ و کمیاب دانش وروں میں شمار کر سکتے ہیں جنہوں نے استشراق کے پس پردہ محرکات کے علاوہ مختلف امور میں مستشرقین کی آرامیں رونما ہونے والے تغیر و ارتقا کی درست طور پر نشان دہی کی ہے۔ یہ مختصر اور جامع نگارش جدید تنقیدی اصولوں اور لوازمات کے ساتھ ساتھ بعض اضافی و مفید تخلیقی پہلووں کی بھی غماز ہے۔