متعدد کتب اور علمی مقالات و مضامین کے مصنف ڈاکٹر شہباز منج ایک پختہ کار محقق و دانشور ہیں۔ گزشتہ دس بارہ سالوں کے دوران میں مشاہدے میں آنے والی ان کی مختلف النوع علمی کاوشوں کے تناظر میں میرا تاثر یہ ہے کہ استشراق، توہینِ رسالت، ادبیات، فرقہ وارانہ ارتباط اور اس سے متعلق مسائل، سماجی حرکیات اور ان کے اسلامی تناظر کے حوالے سے ان کے حوالے سے ان کی تحقیقات و تحریرات نہایت گہرائی کی حامل ہوتی ہیں۔ اسلام اور اس کے معاصر کردار کے ضمن میں ان کا نقطہ نظر تجدد و تجمد کے بین بین، اور خیر الامور اوسطھا کے نظریے کا غماز ہے۔ زیر نظر کتاب میں منج صاحب نے اپنے رواں قلم سے سیرتِ طیبہ بالخصوص وحی و نبوت مصطفیﷺ کے حوالے سے، موضوع پر مرکوز رہتے ہوئے، مستشرقین کے ارتقائی سفر کا بہت خوبی سے تجزیہ کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ اردو زبان میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کا نفع عام کرے اور منج صاحب کی علمی خدمات سے اہل علم و دانش کو استفادے کا موقع فراہم کرتا رہے۔