انسانی تاریخ و ثقافت کو ایکسپلور کرنے کے حوالے سے طبیعت میں شروع سے ہی ایک رومانس سا ہے۔ آج کل جرمنی میں ہروقت یہ پریشانی سی رہتی ہے کہ جتنا ہو سکے اور جہاں جہاں سے ہو سکے، اس کی تاریخ و ثقافت کو جانیں اور طبعی رومان کی تسکین کا کچھ سامان کریں۔جرمنی میں شاید اس کا زیادہ محرک کچھ موروثیت بھی ہو(جس کا ذکر پھر کسی دن کریں گے)۔ سو جب وقت ملے بھاگ کھڑا ہوتا ہوں۔جرمنی کے شہر کاسل کے بارے میں سن رکھا تھا، سو اس ویک اینڈ پر وہاں کی راہ لی۔
ٹرین پر میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک چائنی طالبہ ہیوئے بھی سفر کر رہی تھی، مجھے کہنے لگی آپ کہاں سے ہیں اور کہاں جارہے ہیں ؟ میں نے اپنا اتعارف کراتے ہوکہا: کاسل جا رہا ہوں۔ کہنے لگی: میں بھی وہیں جا رہی ہوں۔ میں نے کہا کاسل میں کہاں وزٹ کا پروگرام ہے، ہنستے ہوئے کہنے لگی: نو پلین از دی بیسٹ پلین، عرض کیا کمال ہے، آپ تو میری ہم مسلک ہیں اوپر سے چائنہ پاکستان ویسے بھی دوست ہیں۔ جب باتوں باتوں میں ایک اور مماثلت نکلی تو اس نے اسے بہت ہی انجوائے کیا، وہ مماثلت یہ تھی کہ یہاں بہت سے چائنی سٹوڈنٹس بھی پاکستانیوں کی طرح کسی نہ کسی طرح داخلہ لے کر ویزا لے لیتے ہیں اور پھر یہاں آکر پڑھائی سے زیادہ جاب پر فوکس کرتے ہیں، بعض پاکستانی لڑکوں نے مجھے بتایا تھا کہ پاکستان میں ان کا فیلڈ کوئی اور تھا، تو اس میں کہیں جگہ نہ ملی تو انھوں نے کسی اور فیلڈ میں داخلہ لے کر ویزا لے لیا اور آکر کام شروع کر دیا، مزے کی بات یہ تھی کہ چائنہ سے وہ لڑکی خود اس کی مثال تھی، اس نے کہا میرا خود یہی حال ہے، میرا شعبہ ارکیٹیکچر تھا ، اس میں نے چائنہ سے بچلر کیا ، اور اب یہاں پھر بچلر بزنس میں داخلہ لے لیا ہے، میں نے کہا اس کا مطلب ہے آپ نو پلین از دا بیسٹ پلین پر مکمل عمل پیرا ہیں۔تھوڑی دیر میں ٹکٹ چیک کرنے والا آگیا، میرا نیٹ کام نہیں کر رہا تھا، اس نے ہاٹ سپاٹ چلایا اور میں نے ڈئوچ لانڈ ٹکٹ چیک کرایا تو کہنے لگی آپ اس کا سکرین شاٹ کیوں نہیں رکھتے ، عرض کیا پتہ نہیں تھا کہ سکریں شاٹ سے بھی کام چل جاتا ہے، ابھی لے لیتا ہوں اس کی نصیحت پر عمل کیا تو واپسی پر بھی سہولت رہی۔ یہ اور اس طرح کی دیگر باتیں جن میں جرمن لینگویج سیکھنے کے حوالے سے اس کی مجاہدانہ اور میری معصومانہ کوششیں شامل تھیں ان پر بھی گپ شپ رہی۔ اس کی باتوں اور اعتماد سے میرا ذہن اپنی پاکستانی بچیوں کے حوالے سے اعتماد کے فقدان اور عدم تحفظ کی طرف بار بار گیا اور ذہن میں یہ خیال آتا رہا کہ اس میں اصل قصور ہمارا یعنی معاشرے اور اس کے بڑوں کا ہے نہ کہ بچیوں کا۔اتنی دیر میں کاسل سٹیش آ چکا تھا۔
جرمنی کے صوبہ ہیسے میں واقع شہر کاسل ایک قدیم اور تاریخی اہمیت کا حامل شہر ہے، جس کی بنیاد قرونِ وسطیٰ میں پڑی۔ ابتدا میں یہ ایک چھوٹا سا قلعہ بند شہر تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سیاسی، ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کا مرکز بنتا گیا۔تاریخی طور پر کاسل خاص طور پر اس وقت اہم بنا جب یہ لینڈ گریویٹ آف ہیسے کاسل( Landgraviate of Hesse-Kassel ) ریاست کا دارالحکومت بنا۔ (لینڈ گریویٹ آف ہیسے کاسل قدیم جرمنی کی ایک شاہی ریاست تھی، جو 1567ء میں اس وقت وجود میں آئی جب “ہیسے” (Hesse) کی بڑی ریاست کو چار بیٹوں میں تقسیم کیا گیا۔اس کے حکمران لینڈگریوز (Landgraves) کہلاتے تھے۔ )
کاسل کی علمی و ادبی تاریخ میں ایک نہایت اہم نام Brothers Grimm کا ہے، جس نے یہاں رہ کر جرمن لوک کہانیوں کو جمع کیا اور دنیا بھر میں متعارف کرایا۔ اس کی مشہور کہانیاں جیسے Cinderella اور Snow White اسی خطے کی روایات سے جڑی ہوئی ہیں۔
انیسویں صدی میں کاسل ایک اہم انتظامی اور ثقافتی مرکز کے طور پر ابھرا، لیکن دوسری جنگِ عظیم کے دوران شہر کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ کے بعد اسے جدید طرز پر دوبارہ تعمیر کیا گیا، جس کی وجہ سے آج یہاں قدیم اور جدید طرزِ تعمیر کا ایک منفرد امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔اس طرح کاسل ایک ایسا شہر ہے جہاں تاریخ، ادب، فن اور جدیدیت ایک ساتھ چلتے ہیں، اور یہی چیز اسے جرمنی کے اہم ثقافتی شہروں میں نمایاں مقام دیتی ہے۔
کاسل کی معاصر ثقافتی اہمیت میں ایک نہایت اہم چیز، دنیا کی سب سے اہم آرٹ نمائشوں میں سے ایک Documenta آرٹ نمائش ہے، جو 1955 میں اس وقت شروع ہوئی ، جب دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کو دوبارہ عالمی ثقافتی منظرنامے سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اس نمائش کا بنیادی مقصد جدید جدید آرٹ ، نئے خیالات، رجحانات اور تنقیدی مباحث کو فروغ دینا تھا۔ یہ یہ نمائش ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتی ہے اور قریباً سو دن تک جاری رہتی ہے، اسی لیے اسے بعض اوقات museum of 100 days بھی کہا جاتا ہے۔اس میں دنیا بھر سے منتخب فن کار اپنے کام پیش کرتے ہیں ۔ اس میں صرف پینٹنگ نہیں بلکہ ویڈیو آرٹ، انسٹالیشن، پرفارمنس آرٹ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر مبنی تخلیقات بھی شامل ہوتی ہیں ۔Documenta کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف آرٹ کی نمائش نہیں بلکہ ایک فکری اور تنقیدی پلیٹ فارم ہے، جہاں معاشرتی، سیاسی، اور ثقافتی مسائل کو فن کے ذریعے زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔
لینڈگریوز (Landgraves) کے دور میں کاسل نہ صرف دفاعی لحاظ سے مضبوط ہوا تھا ، بلکہ فنِ تعمیر، باغات اور ثقافتی اداروں کو بھی فروغ ملا تھا۔ اسی زمانے میں شان دار محلات، باغات اور یادگاریں تعمیر ہوئیں، جن میں آج کا مشہور Bergpark Wilhelmshöhe بھی شامل ہے۔ ہماری نظروں میں آج یہی سمایا تھا۔
کاسل کے سنٹرل ٹرین سٹیشن (Hauptbahnhof (Hbf))سے باہر نکلے تو عجیب سی سکون اور خاموشی تھی۔ سنٹرل ٹرین سٹیشن کے باہر ہمارے یہاں کے ٹرین اور بس سٹیشنز کی طرح ہجوم اور ہڑبونگ کا نام و نشان نہیں تھا۔ دل و دماغ کو بے پناہ وسعتوں کا احساس دلاتا دور دور تک نہایت کھلا اور پرسکون ایریا ، ایسے لگ رہا تھا جیسے مہمانوں کو کھلی بانہوں سے خوش آمدید کہنے کے لیے کھڑا ہو؛ اسے مہمانوں کے استقبال کے لیے خالی کرایا گیا ہو کہ کہیں وہ شور و غل اور ہجوم سے کبیدۂ خاطر نہ ہوں۔ پورا شہر ٹھنڈی اور میٹھی دھوپ تاپتے ہوئے کوئی خواب آسا وادی لگ رہی تھی، جس میں قدم قدم پر رک کر اس کے سکون اور طمانیت کو من میں اتارنے کو دل کرے۔
ہیوئے نے بازار کی راہ لی اور ہم نے ولہلمزہوئے کی۔ہم نے سوچا زندگی بھی ایسے ہی ہے، کوئی آپ سے ایک دو گھنٹے ملتا ہے کوئی ایک دو دن کوئی ایک دوسال کوئی ایک دو دہائی ،اپنے بیوی بچے ، بہن بھائی ماں باپ سے بھی آخر کو جد ہی ہوا جاتا ہے، اس زندگی میں کوئی بھی تو مستقل ساتھ نہیں۔
سڑک کے قریب کھڑے ایک جرمن سے پوچھا :” اش مشٹے ولزہوہے گیہن ” ، تو اس نے سمجھ لیا اور جگہ کے بارے میں آگے کسی کنفیوژن سے بچنے کے لیے مجھے درست کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا: ولزہوہے نہیں “ولہلمزہوئے” اور پھر کہا سڑک کراس کرکے نیچے دونوں سائیڈز پر شاپس اور رسیٹورانٹس کے بیچ میں جو سیڑھیاں ہیں ، انھیں نیچے اترتے جائیں ، آخر میں ٹریم (شہر کے اندر پبلک راستوں وغیرہ پر سفر کرنے والی ریل) کا سٹاپ آئے گا، اس پر سوار ہوں ، دائیں طرف جاتے ہوئے وہ آپ کو چند منٹ میں اوپر پہاڑ پر لے جائے گی۔ وہاں ہے ولہلمزہوئے۔
ہم نیچے اترتے گئے۔ چھٹی کی وجہ سے دوسری دوکانیں بند تھیں، لیکن ریسٹورانٹس اور کھانے پینے کی دکانیں کھلی تھیں ۔ کچھ لوگ دونوں جانب ٹولیوں کی شکل میں بیٹھے کھانے انجوائے کر رہے تھے، اور کچھ اپنی منزلوں کے لیے ہمارے ساتھ سیڑھیاں اتر رہے تھے ۔ ٹریم سٹاپ آیا تو دیکھا کہ ایک گورا چٹا با ریش نوجوان بنچ پر بیٹھا سگریٹ پی رہا ہے۔ ہمیں جرمن لگا ، سو ہم نے اب تک کا جرمن آموختہ ری کال کیا اور عرض کناں ہوئے:” ولشر سوک ولہمزہوئے گیہن؟، اس نے کہا ٹرین نہیں ٹریم جائے گی۔ یعنی وہ ہمارا غلط جرمن جملہ سمجھ چکا تھا۔ وہ بڑے غور سے متوجہ ہوا، اپنا سگریٹ بند کیا اور کہا میں آپ کی مدد کرتا ہوں، یہاں سے نہیں ٹریم دو سٹاپ آگے سے جائے گی، اور ہمارے ساتھ چل دیا۔ انٹرنیٹ پر لوکیشن اور ٹرین کی تفصیلات ڈھونڈنے لگا۔ میں نے پوچھا آپ کہاں سے ہو، تو کہنے لگا : یوکرین سے ہوں ، وہاں کی بمباری سے بھاگا ہوں ، یہاں جاب سنٹر نے مجھے جرمن سکول میں ڈالا ہے، پانچ سو مجھے خرچہ ملتا ہے اور پانچ سو میرے فلیٹ کا کرایہ بھی یہی دیتے ہیں، میں نے کہا آپ کی فیملی ؟ کہا : کچھ نہیں اکیلا ہی ہوں۔ ایک سال ہو چلا اب کچھ ٹھہراؤ آیا ہے ورنہ بہت پریشان تھا، انگریزی تھوڑی بہت پہلے آتی تھی، اب جرمن کی کوشش میں بھول گئی ہے۔ میں نے کہا یوکرین جنگ میں قصور وار کون ہے، کہنے لگا پیوٹن وہ ہم پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ڈیما نام کے اس نوجوان نے کمال کا ساتھ دیا اور کوشش کرتا رہا کہ میں اس گپ شپ لگاؤں، لیکن اسے انگلش کا کوئی کوئی لفظ آتا تھا اور مجھے جرمن کا کوئی کوئی، اس طرح دونوں نے مکس کرکے گذارا کیا ، ٹریم کو آنے میں وقت لگ گیا،اتنے میں ڈیما نے قریب میں کاسل کی کئی تاریخی عمارتیں دکھائیں اور ان کے ساتھ ہماری تصاویر بھی بنائیں ، افسوس اس کی تصویر میں نہیں بنا سکا، یاد ہی بعد میں آیا۔ کوئی پونا گھنٹا بعد ٹریم آئی تو ہم روانہ ہوئے، لیکن ڈیما نے اب تک ہمارا ولہلمز ہوئے درست کر دیا تھا۔ اب ہم نے اسے ٹریم میں رٹا لگایا، حتی کہ وہاں پہنچتے پہنچتے اسے جرمن لہجے تک لے آئے۔ ٹریم سے اتر کر ولہلمزہوئے پارک اور پھر آگے ہی آگے نہایت دور تک اس کے خوب صورت نظاروں میں کھو گئے۔
ولہلمزہوئے (Wilhelmshöhe) دراصل 18ویں صدی کے آخر میں تعمیر کیا گیا ایک شان دار شاہی محل ہے، جسے Landgrave William IX اور بعد ازاں Elector William I نے اپنی رہائش کے لیے تعمیر کروایا۔ اس محل کا طرزِ تعمیر Neoclassical ہے، جس میں سادگی، توازن اور عظمت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ آج یہ محل ایک عجائب گھر (Museum) کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جہاں قیمتی فن پارے اور تاریخی نوادرات محفوظ ہیں۔یہ محل نہ صرف ایک شاہی رہائش گاہ ہے بلکہ اقتدار، ذوقِ جمالیات اور یورپی اشرافیہ کی زندگی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ اس کی عمارت اور اردگرد کے مناظر آدمی کو 18ویں اور 19ویں صدی کے شاہانہ دور میں لے جاتے ہیں۔
Wilhelmshöhe Palace کے گرد پھیلا ہوا Bergpark Wilhelmshöhe دنیا کے سب سے بڑے پہاڑی پارکس میں سے ایک ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اسے قدرتی پہاڑی ڈھلوانوں کے ساتھ اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ فطرت اور انسانی تخلیق ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں۔پارک کی سب سے نمایاں علامت Hercules Monument ایک عظیم الشان مجسمہ ہے، جو پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے اور کاسل شہر کی شناخت ہے۔ اس کے نیچے بہتے ہوئے آبشار باروک (Baroque) طرز کی شان دار آبی انجینئرنگ کی مثال ہیں ۔خوب صورت جھیلیں، پل، سبزہ زار اور قدرتی مناظر سیاحوں کو مسحور کیے دیتے ہیں ۔یہ واٹر فیچرز خاص طور پر اُس وقت زیادہ دل کش ہوتے ہیں جب مخصوص دنوں پر پانی اوپر سے نیچے چھوڑا جاتا ہے، جو کئی کلومیٹر تک بہتا ہوا ایک جادوئی منظر پیش کرتا ہے۔اس یادگار کی تاریخی و ثقافتی اہمیت کے پیش نظر 2013 میں اسے UNESCO World Heritage کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
ولہلمزہوئے میں چوٹی پر نصب مجسمے تک جاتے ہوئے بڑی گھاٹیوں کو عبور کرنا پڑتا ہے۔ جب ہم باغ میں داخل ہوئے، تو اگرچہ لوگوں کی ٹولیاں ٹریم اور کاروں ، بسوں سے اتر کر آرہی تھیں، لیکن تھوڑی ہی دیر میں باغ میں جاتی مختلف پگڈنڈیوں میں گم ہو جاتی تھیں، اور ایسے لگتا تھا اندر آگے دور تک کوئی بھی نہیں۔کبھی کبھی ہم سوچتے کہ یار آگے تو سنسان ہے، بس یہیں کچھ تصویریں بنائیں اور واپسی کی راہ لیں، لیکن پھر تھوڑی ہمت کرکے اور اوپر کو ہوتے ، جوں جوں اوپر جاتے گئے لوگوں کے ہجوم اور اس جگہ کی نوع بنوع اور خوب صورتیاں جلوہ گر ہوتی گئیں۔ جتنے آگے جائیں محسوس ہو کہ شاید یہی آخری جگہ ہو، جہاں اتنے لوگ ٹھہرے ہیں، لیکن پھر اوپر نظر ڈالیں تو لوگ ابھی بھی اوپر جا رہے ہوں، پھر خیال آئے کہ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں، سو پھر اوپر کی راہ لیں، دل کش مناظر کو دیکھتے اوپر سے اوپر جاتے جاتے بالآخر چوٹی پر پہنچ گئے، جہاں سے پورا شہر نیچے ایک گہرے گاؤں کی شکل میں نظر آنے لگا۔ وہاں تھک کو چور ہوئے ہوئے خیال آ رتا رہا کہ یار ہم نے تو یوں کیا جیسے یہ کوئی ایسا قلعہ تھا جسے فتح کرنا فرض تھا۔کیوں کہ نیچے کی منزلوں میں کئی بار سوچا تھا کہ بھیا نوجوانی کی عمر نہیں بس کرو، مگر “خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے “سے آشنا طبیعت کچوکے لگاتی رہی کہ:
ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن
طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے
پروفیسر ڈاکٹر شہباز منج
3 مئی 2026
جرمنی